دفاعی ٹیکنالوجی کی دنیا میں آج کل shenyang j-35 سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع ہے۔ یہ چین کا جدید ترین پانچویں نسل کا (5th generation) سٹیلتھ فائٹر جیٹ ہے، جسے خصوصی طور پر طیارہ بردار بحری جہازوں (Aircraft Carriers) سے اڑان بھرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی رونمائی اور آزمائشی پروازوں نے عالمی سطح پر فوجی تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں، ہم shenyang j-35 کی تاریخ، اس کی تکنیکی خصوصیات، اور عالمی فوجی توازن پر اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
اس جدید طیارے کی جڑیں دراصل Shenyang FC-31 سے جا ملتی ہیں، جو ایک دہائی قبل منظرِ عام پر آیا تھا۔ ابتدائی طور پر FC-31 کو برآمدی (export) مقاصد کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، لیکن چینی بحریہ (PLA Navy) کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے ایک جدید سٹیلتھ طیارے کی ضرورت نے اس پروجیکٹ کو ایک نئی سمت دی۔ اسی ارتقائی عمل کے نتیجے میں shenyang j-35 وجود میں آیا۔
سال 2021 میں اس کی پہلی واضح تصاویر سامنے آئیں، جس میں اسے ایک کیٹاپلٹ لانچ سسٹم (catapult launch system) کے لیے موزوں لینڈنگ گیئر کے ساتھ دیکھا گیا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ طیارہ چین کے نئے طیارہ بردار بحری جہاز، جیسے کہ 'فوجیان' (Fujian) سے آپریٹ کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ چین کی جانب سے تمام تکنیکی تفصیلات کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے، لیکن دستیاب معلومات اور دفاعی ماہرین کے تجزیوں کے مطابق shenyang j-35 کئی جدید صلاحیتوں کا حامل ہے:
دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اکثر shenyang j-35 کا موازنہ امریکی لاک ہیڈ مارٹن F-35 لائٹننگ ٹو کے ساتھ کرتے ہیں۔ دونوں طیارے پانچویں نسل کے ہیں اور دونوں ہی سٹیلتھ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
جہاں F-35 ایک سنگل انجن طیارہ ہے اور کئی دہائیوں کی تحقیق اور عالمی سطح پر آپریشنل تجربے کا حامل ہے، وہیں J-35 ایک ڈبل انجن طیارہ ہے۔ ڈبل انجن ہونے کی وجہ سے بحری آپریشنز میں اسے ایک اضافی حفاظتی تہہ (safety margin) حاصل ہوتی ہے، کیونکہ سمندر کے اوپر پرواز کے دوران اگر ایک انجن خراب بھی ہو جائے تو طیارہ دوسرے انجن کی مدد سے واپس آ سکتا ہے۔ اگرچہ J-35 کا ابھی وسیع پیمانے پر آپریشنل تجربہ نہیں ہے، لیکن یہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ایوی ایشن ٹیکنالوجی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
Shenyang J-35 کی شمولیت سے چین کی بحریہ (PLA Navy) کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ یہ چین کو اپنی سمندری حدود سے باہر (Blue-water navy) طاقت کے استعمال کی صلاحیت فراہم کرے گا۔ بحرالکاہل اور اس کے آس پاس کے خطوں میں اس طیارے کی موجودگی طاقت کے موجودہ توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، مستقبل میں اس کے زمینی ورژن یا برآمدی ماڈلز کے منظرِ عام پر آنے کے امکانات بھی رد نہیں کیے جا سکتے، جو عالمی ہتھیاروں کی مارکیٹ میں ایک نیا مقابلہ پیدا کر سکتے ہیں۔
کیا آپ shenyang j-35 اور دیگر عالمی دفاعی پیش رفت کے بارے میں غیر ملکی ماہرین کے تجزیے، ویڈیوز اور رپورٹس پڑھنا چاہتے ہیں؟ بعض اوقات جغرافیائی پابندیوں (Geo-restrictions) کی وجہ سے بین الاقوامی دفاعی فورمز اور نیوز سائٹس تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال میں FortVPN آپ کا بہترین ساتھی ہے۔
جغرافیائی پابندیوں کو ختم کریں اور دنیا بھر کی معلومات تک محفوظ رسائی حاصل کریں۔
محفوظ براؤزنگ کے لیے FortVPN حاصل کریں