sitara-e-imtiaz (ستارہ امتیاز) پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا اور انتہائی باوقار سول اعزاز ہے۔ یہ اعزاز ریاستِ پاکستان کی جانب سے ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ملک کی سلامتی، قومی مفادات، عالمی امن، ثقافت، کھیل، سائنس اور عوامی خدمت کے شعبوں میں غیر معمولی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔ ہر سال یومِ آزادی (14 اگست) کے موقع پر ان اعزازات کا اعلان کیا جاتا ہے، جبکہ یومِ پاکستان (23 مارچ) کو صدرِ مملکت ایک پروقار تقریب میں یہ ایوارڈز تقسیم کرتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم sitara-e-imtiaz کی تاریخ، اس کی اہمیت، انتخاب کے طریقہ کار اور ان نمایاں شخصیات کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے اس اعلیٰ ترین اعزاز کو اپنے نام کیا۔
پاکستان میں سول اعزازات کا آغاز 19 مارچ 1957 کو ہوا۔ پاکستان کے سول اعزازات کو مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں نشانِ امتیاز سب سے بڑا، اس کے بعد ہلالِ امتیاز، پھر sitara-e-imtiaz اور آخر میں تمغہ امتیاز آتا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف پاکستانی شہریوں کے لیے مخصوص ہے بلکہ ان غیر ملکی شخصیات کو بھی دیا جا سکتا ہے جنہوں نے پاکستان کے وقار کو بلند کرنے یا عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کیا ہو۔
ہر سال ایوانِ صدر میں منعقد ہونے والی تقریبِ تقسیمِ اعزازات پورے ملک کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ حال ہی میں کئی نامور شخصیات کو ان کی گراں قدر خدمات پر sitara-e-imtiaz سے نوازا گیا۔
کھیلوں کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے کپتان بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں کو بھی ماضی میں اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہے۔ اسی طرح شوبز انڈسٹری، صحافت اور سماجی خدمات کے شعبے سے وابستہ کئی نامور چہروں نے اپنی طویل جدوجہد کے بعد یہ تمغہ اپنے سینے پر سجایا۔
اس اعزاز کے لیے نامزدگی کا عمل انتہائی شفاف اور تفصیلی ہوتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزارتیں، محکمے اور بااختیار ادارے متعلقہ افراد کی کارکردگی کی بنیاد پر نامزدگیاں کابینہ ڈویژن کو بھیجتے ہیں۔ اس کے بعد ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی ان نامزدگیوں کا بغور جائزہ لیتی ہے اور حتمی منظوری کے لیے سمری صدرِ مملکت کو پیش کی جاتی ہے۔ یہ طویل عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صرف حقدار کو ہی sitara-e-imtiaz کا حقدار ٹھہرایا جائے۔
یومِ پاکستان کی شاندار پریڈ اور ایوانِ صدر میں ہونے والی اعزازات کی تقریب کو دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانی لائیو دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم، جیو ریسٹرکشنز (Geo-restrictions) کی وجہ سے کئی بار پاکستانی نیوز اور پی ٹی وی اسپورٹس/ہوم کی لائیو سٹریمنگ بیرون ملک نہیں چلتی۔ اس مسئلے کا بہترین حل FortVPN ہے۔
عوام کی جانب سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آیا sitara-e-imtiaz جیتنے والوں کو کوئی نقد انعام یا مالی فائدہ بھی ملتا ہے؟ حقیقت میں یہ ایک اعزازی تمغہ ہے، جس کا مقصد فرد کی خدمات کا ریاستی سطح پر اعتراف کرنا ہے۔ اس کے ساتھ براہ راست کوئی بڑی نقد رقم منسلک نہیں ہوتی، تاہم اس اعزاز کو حاصل کرنے والے افراد کو معاشرے، سرکاری تقریبات اور اداروں میں انتہائی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں بعض پروٹوکولز حاصل ہوتے ہیں۔
اپنی انٹرنیٹ سیکیورٹی کو یقینی بنائیں اور دنیا میں کہیں سے بھی پاکستانی نشریات تک رسائی حاصل کریں۔
FortVPN کے ساتھ محفوظ سٹریمنگ کا تجربہ کریں