جنوب مشرقی ایشیا میں واقع south china sea (بحیرہ جنوبی چین) آج کل عالمی سیاست، معیشت اور جغرافیائی تنازعات کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ یہ سمندری خطہ نہ صرف اربوں ڈالر کی عالمی تجارت کا راستہ ہے بلکہ تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر سے بھی مالا مال ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف ممالک کی جانب سے اس سمندر کی ملکیت اور خودمختاری کے دعووں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم بحیرہ جنوبی چین کے تاریخی تناظر، موجودہ صورتحال اور اس کے عالمی اثرات کا جائزہ لیں گے۔
یہ سمندر بحر الکاہل کا ایک حصہ ہے جو چین، تائیوان، فلپائن، ملائیشیا، برونائی، انڈونیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع ہے۔ اس کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کا اندازہ درج ذیل حقائق سے لگایا جا سکتا ہے:
اس خطے میں تنازع کی اصل وجہ مختلف ممالک کے اوورلیپنگ (متصادم) دعوے ہیں۔ ہر ملک اپنے تاریخی، قانونی اور جغرافیائی دلائل پیش کرتا ہے۔
چین south china sea کے تقریباً 90 فیصد حصے پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس دعوے کی بنیاد ایک نقشہ ہے جسے 1940 کی دہائی میں تیار کیا گیا تھا، جس میں انگریزی کے حرف 'U' کی شکل میں 9 لکیریں (Nine-Dash Line) کھینچی گئی ہیں۔ چین کا مؤقف ہے کہ تاریخی طور پر یہ جزائر اور سمندری حدود اس کی ملکیت ہیں۔ چین نے حالیہ برسوں میں یہاں مصنوعی جزائر تعمیر کیے ہیں اور وہاں فوجی اڈے، ہوائی پٹیاں اور میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کیے ہیں۔
دوسری طرف فلپائن، ویتنام، ملائیشیا اور برونائی چین کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) پر مبنی ہے، جو ہر ساحلی ملک کو 200 ناٹیکل میل تک کا ایکسکلیوسیو اکنامک زون (EEZ) فراہم کرتا ہے۔ ویتنام اور فلپائن کے ساحلوں کے قریب چینی جہازوں کی موجودگی اکثر سفارتی اور عسکری کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔ 2016 میں دی ہیگ کے ایک بین الاقوامی ٹربیونل نے فلپائن کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے چین کے "نائن ڈیش لائن" کے دعوے کو غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم چین نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
اگرچہ امریکہ کا اس خطے میں کوئی علاقائی دعویٰ نہیں ہے، لیکن وہ south china sea میں بین الاقوامی پانیوں میں "آزادیِ جہاز رانی" (Freedom of Navigation) کا سب سے بڑا حامی ہے۔ امریکہ باقاعدگی سے اپنے بحری جنگی جہاز اور طیارے اس علاقے میں بھیجتا ہے تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو چیلنج کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، جاپان، آسٹریلیا، اور بھارت بھی اس خطے میں چین کی جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان ممالک نے امریکہ کے ساتھ مل کر مختلف فوجی مشقیں کی ہیں تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس ساری صورتحال نے south china sea کو ایک بین الاقوامی فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں south china sea islands اور سکاربرو شول (Scarborough Shoal) کے قریب چینی کوسٹ گارڈز اور فلپائنی جہازوں کے درمیان کئی بار تصادم ہو چکا ہے۔ پانی کی توپوں کے استعمال اور جہازوں کے ٹکرانے کے واقعات سے جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کوئی چھوٹی سی غلطی بھی ہوئی تو یہ عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ امریکہ کا فلپائن کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ ہے۔
اس تنازعے کا پرامن حل فی الحال دور نظر آتا ہے۔ جب تک تمام فریقین بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر نہیں آتے، خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔
جغرافیائی تنازعات اور سنسرشپ کے اس دور میں، انٹرنیٹ پر آزادانہ رسائی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ بعض اوقات حساس عالمی خبروں تک رسائی پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ اپنی پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ایک مستند سروس کا استعمال بے حد ضروری ہے۔
آج ہی اپنے انٹرنیٹ کنکشن کو محفوظ بنائیں اور دنیا بھر کی معلومات تک بلا خوف رسائی حاصل کریں۔
محفوظ براؤزنگ شروع کریں