wahab riaz: پاکستان کے جارحانہ فاسٹ باؤلر سے چیف سلیکٹر تک کا سفر
پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں کئی مایہ ناز فاسٹ باؤلرز گزرے ہیں، لیکن wahab riaz کا ذکر آتے ہی شائقین کے ذہنوں میں ایک ایسے باؤلر کی تصویر ابھرتی ہے جو اپنی تیز رفتاری، باؤنسرز اور بلے بازوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باؤلنگ کرنے کے لیے مشہور تھا۔ ان کا کیریئر شاندار کامیابیوں، یادگار اسپیلز اور چند تنازعات کا مجموعہ رہا ہے۔ میدان کے اندر اپنی جارحانہ باؤلنگ سے لے کر میدان کے باہر بحیثیت نگران وزیر اور کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر تک، ان کا سفر انتہائی دلچسپ اور نشیب و فراز سے بھرپور رہا ہے۔
یہ مضمون وہاب ریاض کے ابتدائی کیریئر، بین الاقوامی کرکٹ میں ان کے عروج، ان کے ناقابل فراموش ورلڈ کپ اسپیلز، اور ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی انتظامی اور سیاسی ذمہ داریوں پر ایک تفصیلی نظر ڈالتا ہے۔ اگر آپ پاکستان کرکٹ کی حالیہ تاریخ کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو وہاب ریاض کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ابتدائی زندگی اور ڈومیسٹک کرکٹ کا آغاز
28 جون 1985 کو لاہور کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہونے والے وہاب ریاض نے چھوٹی عمر سے ہی کرکٹ کا شوق پالا۔ ان کے والد ایک کاروباری شخصیت تھے، لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کے کرکٹ کے جنون کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ وہاب نے اپنے کرکٹ کے سفر کا آغاز لاہور کی ڈومیسٹک ٹیموں سے کیا۔ بائیں ہاتھ سے تیز گیند بازی کرنے کی ان کی قدرتی صلاحیت نے بہت جلد سلیکٹرز کی توجہ حاصل کر لی۔
قائداعظم ٹرافی اور دیگر ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں ان کی شاندار کارکردگی نے انہیں ایک ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کے طور پر متعارف کرایا۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کرنے کے ماہر تھے اور نئی گیند سے بھی خطرناک باؤنسرز کرانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اسی ڈومیسٹک پرفارمنس کی بنیاد پر انہیں 2008 میں قومی ٹیم میں شامل کیا گیا۔
بین الاقوامی کیریئر کا عروج اور ٹیسٹ ڈیبیو
وہاب ریاض نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ فروری 2008 میں زمبابوے کے خلاف کھیلا۔ تاہم، ان کی اصل پہچان ان کے ٹیسٹ ڈیبیو سے بنی۔ 2010 میں انگلینڈ کے خلاف اوول کے تاریخی گراؤنڈ میں انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا اور پہلی ہی اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ ان کی تیز رفتار گیندوں نے انگلش بلے بازوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کیا۔
بدقسمتی سے، وہ دور پاکستان کرکٹ کے لیے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی وجہ سے انتہائی مشکل تھا۔ محمد عامر اور محمد آصف پر پابندی کے بعد، وہاب ریاض پر پاکستان کے فاسٹ باؤلنگ اٹیک کی بھاری ذمہ داری آ گئی۔ انہوں نے اس دباؤ کا مقابلہ کیا اور کئی سالوں تک پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کا اہم حصہ رہے۔
ورلڈ کپ 2011: موہالی کا سیمی فائنل
2011 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کے خلاف ان کی کارکردگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اگرچہ پاکستان وہ میچ ہار گیا تھا، لیکن وہاب ریاض نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے وریندر سہواگ، ویرات کوہلی، یووراج سنگھ اور ایم ایس دھونی جیسے مایہ ناز بلے بازوں کو آؤٹ کر کے بھارتی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی تھی۔ یہ میچ ان کے کیریئر کے عروج کے لمحات میں سے ایک تھا۔
ورلڈ کپ 2015: شین واٹسن کے خلاف تاریخی اسپیل
کرکٹ کی تاریخ کے سب سے سنسنی خیز اور جا��حانہ اسپیلز کا ذکر کیا جائے تو وہاب ریاض کا آسٹریلیا کے شین واٹسن کے خلاف 2015 کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل کا اسپیل سرِفہرست آتا ہے۔ ایڈیلیڈ اوول میں آسٹریلیا ہدف کا تعاقب کر رہا تھا، جب وہاب ریاض نے گیند سنبھالی۔ انہوں نے مسلسل 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤنسرز کیے اور واٹسن کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔
"وہ اسپیل ایسا تھا جس نے پورے آسٹریلیا کو خاموش کر دیا تھا۔ وہاب ریاض نے اس دن ثابت کیا کہ فاسٹ باؤلنگ محض وکٹیں لینے کا نام نہیں، بلکہ بلے باز پر نفسیاتی غلبہ پانے کا نام ہے۔"
اس اسپیل کے دوران انہوں نے واٹسن کو ایک موقع پر کیچ آؤٹ بھی کروا دیا تھا، لیکن راحت علی کی جانب سے کیچ ڈراپ ہونے کے باعث آسٹریلیا وہ میچ جیتنے میں کامیاب رہا۔ تاہم، دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور ماہرین نے وہاب کی اس شاندار اور دلیرانہ باؤلنگ کی بھرپور تعریف کی۔ یہاں تک کہ برائن لارا جیسے لیجنڈ نے اسے کرکٹ کی تاریخ کے بہترین فاسٹ باؤلنگ اسپیلز میں سے ایک قرار دیا۔
کیریئر کے اہم اعداد و شمار (International Stats)
- ٹیسٹ کرکٹ: 27 میچز، 83 وکٹیں، بہترین باؤلنگ (5/63)
- ایک روزہ میچز (ODIs): 91 میچز، 120 وکٹیں، بہترین باؤلنگ (5/46)
- ٹی ٹوئنٹی (T20Is): 36 میچز، 34 وکٹیں
- پاکستان سپر لیگ (PSL): 100 سے زائد وکٹیں لینے والے پہلے باؤلر، پشاور زلمی کے مایہ ناز کھلاڑی
فرنچائز کرکٹ اور پی ایس ایل میں خدمات
بین الاقوامی کرکٹ کے ساتھ ساتھ، وہاب ریاض نے ٹی ٹوئنٹی لیگز میں بھی بھرپور نام کمایا۔ خاص طور پر پاکستان سپر لیگ (PSL) میں وہ پشاور زلمی کی پہچان بن گئے۔ وہ لیگ کی تاریخ کے سب سے کامیاب باؤلرز میں سے ایک ہیں اور طویل عرصے تک سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی ان کے پاس رہا۔ ڈیرن سیمی کی قیادت میں پشاور زلمی کو چیمپئن بنوانے میں ان کے یارکرز اور ڈیتھ اوورز کی باؤلنگ کا کلیدی کردار تھا۔ بعد ازاں، انہوں نے پشاور زلمی کی کپتانی کے فرائض بھی انجام دیے۔
سیاست، انتظامی امور اور حالیہ تنازعات
اگست 2023 میں بین الاقوامی کرکٹ سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کے بعد، وہاب کا کیریئر ایک نیا موڑ مڑا۔ انہیں پنجاب کی نگران حکومت میں وزیرِ کھیل مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے کھیلوں کی ترویج اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اعلانات کیے۔ لیکن ان کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کا چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا۔
بحیثیت چیف سلیکٹر، ان کا دور انتہائی متنازعہ رہا۔ خاص طور پر 2024 کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کی سلیکشن پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹیم کی ناقص کارکردگی، پہلے ہی راؤنڈ میں امریکہ اور بھارت سے شکست، اور کھلاڑیوں کے رویوں کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس نے پی سی بی کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کیا۔ جولائی 2024 میں، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے وہاب ریاض کو سلیکشن کمیٹی سے برطرف کر دیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے بعض کھلاڑیوں کو ضرورت سے زیادہ سپورٹ کیا اور ڈومیسٹک پرفارمرز کو نظر انداز کیا۔
جغرافیائی پابندیوں کے بغیر کرکٹ کی لائیو کوریج اور آرکائیوز دیکھیں
اکثر اوقات پرانے تاریخی کرکٹ میچز، جیسے کہ وہاب کا 2015 کا اسپیل، یا موجودہ کرکٹ اسٹریمنگ مخصوص ممالک میں جیو بلاک ہوتی ہے۔ اگر آپ پاکستان سے باہر سفر کر رہے ہیں یا مقامی اسپورٹس ایپس تک رسائی چاہتے ہیں، تو FortVPN آپ کے کنکشن کو محفوظ بناتا ہے اور آپ کو بغیر کسی رکاوٹ کے کسی بھی ریجن سے کرکٹ دیکھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
Get FortVPN Freeعام پوچھے گئے سوالات (FAQs)
وہاب ریاض کی باؤلنگ اسپیڈ کتنی تھی؟
اپنے عروج کے دور میں وہاب باقاعدگی سے 145 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ کرتے تھے۔ ان کی تیز ترین گیند 154.5 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے کب ریٹائرمنٹ لی؟
انہوں نے اگست 2023 میں تمام طرز کی بین الاقوامی کرکٹ سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، تاہم وہ فرنچائز کرکٹ کھیلتے رہے۔
انہیں پی سی بی سلیکشن کمیٹی سے کیوں ہٹایا گیا؟
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں پاکستانی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور مبینہ طور پر میرٹ کے خلاف سلیکشن کے الزامات کے باعث، چیئرمین پی سی بی نے انہیں جولائی 2024 میں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔
کرکٹ کے میدان میں ایک جارحانہ کھلاڑی سے لے کر بورڈ کے اعلیٰ عہدوں تک، وہاب کی کہانی کرکٹ کے متوالوں کے لیے ہمیشہ زیرِ بحث رہے گی۔ ان کے عروج و زوال نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں جذبہ، ٹیلنٹ اور دباؤ کا مقابلہ کس طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔